پیر‬‮   25   جون‬‮   2018
           

پاک فوج کے خلاف بیانات ،،،اپنے خلاف ریفرنس دائر ہونے پر جسٹس شوکت عزیز کا چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آگیا


اسلا م آ با د(نیوز ایجنسیاں)وفاقی دارالحکومت کی عدالتِ عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے خلاف دائر ریفرنس کے مدعی ‘پراکسی’ ہیں اور اصل شکایت کنندہ کوئی اور ہے۔جسٹس شوکت عزیز نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) سے درخواست کی کہ ان کے اظہارِوجوہ کے نوٹس کو رد کیا جائے کیونکہ انہوں نے فوج

کے خلاف منفی ریمارکس نہیں دیئے۔واضح رہے کہ رکنِ قومی اسمبلی جمشید دستی کی جانب سے دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا کہ فیض آباد میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے دیے گئے دھرنے سے متعلق ایک سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنا دینے والی مذہبی جماعتوں اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر اعتراض اٹھایا تھا جس میں مسلح افواج کی جانب اہم کردار ادا کیا گیا تھا۔مذکورہ ریفرنس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد رواں ماہ 6 فروری کو ایس جے سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ رائے دی گئی کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایس جے سی میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ گان صرف ‘پراکسیز’ کا حص ہیں جنہیں کسی دوسرے کی ایما پر ریفرنس دائر کرنے کے لیے کہا گیا تاہم اس حوالے سے ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر پیش بھی کیے جا سکتے ہیں’۔خیال رہے کہ ایس جے سی ایک سپریم آئینی ادارہ آرٹیکل 209 کے تحت بنایا گیا ہے جو جج صاحبان اور اہم سرکاری عہدوں کے پر فائز ہونے والی شخصیات کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرتا ہے۔جسٹس شوکت صدیقی نے ایس جے سی کو تحریری جواب میں وضاحت پیش کی کہ آرمی ایک آئینی ادارہ نہیں ہے بلکہ آئین کے تحت اس کی تخلیق ہوتی ہے اس لیے آئینی عدالتوں کے دائرہ کار سے باہر نہیں۔انہوں نے آئین کے آرٹیکل 243 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو دفاعی فورسز پر مکمل کنٹرول اور اختیار ہوتا ہے نہ کہ فوج کو وفاقی ادارے پر۔جسٹس شوکت صدیقی نے مزید کہا کہ فوج کی ذمہ داری پاکستان کو درپیش خارجی مداخلت سے بچانا اور سول حکومت کی درخواست پر قانون کی عملداری کو برقرار رکھنا ہے اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے آئینی دائروں میں رہتے ہوئے کام کرنے کا پابند رکھے۔خیال رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ایک ریٹائرڈ ملازم کی جانب سے بھی دائر ریفرنس کا بھی سامنا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عدالتِ عالیہ کے جج نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر بغیر اجازت رنگ و روغن کروایا۔جس پر جج نے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی کہ مذکورہ ریفرنس کی اوپن ٹرائل کیا جائے۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us