پیر‬‮   25   جون‬‮   2018
           

عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ میں مردوں اور عورتوں کے ایک ساتھ کھڑے ہونےکے بار ے میں شریعت کاحکم کیا ہے؟؟ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بتا ڈالا


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کی معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کا گزشتہ ہفتے انتقال ہو گیا تھا۔ جس کے بعد قذافی سٹیڈیم کے قریب واقع ایک گرائونڈ میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی تھی جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی تھی۔ یہ نماز جنازہ جماعت اسلامی

کے منحرف رہنما اور عالم اسلام کی مشہور شخصیت سید ابولاعلیٰ مودودی کے بیٹے سید حیدر فاروق مودودی نے پڑھائی ۔ نماز جنازہ میں مردو خواتین دونوں شامل تھےجو ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر نماز جنازہ ادا کرتے رہے۔ جس کے بعد ملک کے دینی حلقوںمیں ہنگامہ کھڑا ہو گیا کہ ایسی نماز جنازہ کی کوئی شرعی حیثیت نہیں اورایسے اقدامات کا تدارک ہونا چاہیے تاکہ شعائر اسلام کا کھلے آسمان تلے مذاق اڑانے کا سلسلہ روکا جا سکے ۔ خود سید حیدر فاروق اور لبرل طبقے کی شخصیات اس نماز جنازہ کے دفاع میں بھی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اور کہا کہ مردوں اور عورتوں کے مل کر نماز جنازہ پڑھنے یا نماز ادا کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ اس بارے میں بر صغیر کے معروف ترین مذہبی سکالر ڈاکٹرذاکر نائیک سے آج سے چند سال قبل ایک پروگرام میں ایک سوال پوچھا گیا کہ کیا خواتین با جماعت نماز ادا کر سکتی ہیں۔ اس پر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا تھا کہ خواتین کی باجماعت نماز کی ادائیگی پر دین میں کوئی روک ٹوک نہیں تاہم اگر وہ کسی مرد امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتی ہیں تو انھیں مردوں کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ یا تو وہ جماعت کے دوران ایک پردہ تان لیں اور پردے کی دوسری جانب باجماعت نماز ادا کریں ۔اور اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو مردوں سے پچھلی صفوں میں کھڑی ہو جائیں تاکہ دوران نماز کسی نامحرم مرد کی ان پر نگاہ نہ پڑھنے پائے۔ اور ویسے بھی مردوں کی نماز کی فضلیت صرف اگلی صفوں میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے میں ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us