پیر‬‮   25   جون‬‮   2018
           

استاد بگڑے ہوئے طالب علم کو مار ے پیٹے بغیر کس طرح سے اس کے رویے میں بہتری لا سکتا ہے؟؟اساتذہ یہ واقعہ ضرور پڑھیں


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اردو کے نوجوان ٹیچر عدیل گیلانی اسلام آباد بیکن ہائوس سکول کے مارگلہ کیمپس میں پڑھاتے ہیں۔ بیکن ہائوس سکول کا شمار شہر کے ان سکولوں میں ہوتا ہے جہاں اصحاب ثروت کے بچے زیر تعلیم ہیں۔ بھاری بھرکم فیسوں کی ادائیگی کی بدولت والدین کا رویہ سکول انتطامیہ کے ساتھ ذرا آمرانہ ہوتا ہے۔ چنانچہ سکولوں کی انتظامیہ بھی

اساتذہ کے ساتھ یہی سلوک روا رکھنے کو اپنا پیشہ ورانہ حق سمجھتی ہے۔ بیشتر طلبا بڑے ماں باپ کے بچے ہونے کی وجہ سے بلا کے بگڑے ہوئے ، خود سر اور ضدی ہوتے ہیں۔ شاید انھیں اپنے سروں سے ٹالنے اور سکولوں میں بھیجنے کی بھی والدین کے نزدیک یہی وجہ ہوتی ہو گی ۔ ان تمام حالات کا ملبہ ایک ٹیچر کے سر آن گرتاہے ۔ جو اپنی جملہ استعداد اور جسمانی اور ذہنی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے کمرہ جماعت میں تختہ مشق پر چڑھا ہوتا ہے ۔ تاہم عدیل گیلانی نے چند ہی برسوں میں تدریسی مسائل سے نبردآزما ہونے کے بعد کچھ ایسے حربے دریافت کر لیے ہیں جو خود ان کی کامیابی کا ذریعہ تو ہیں ہی مشکلات میں گھرے کئی دیگر اساتذہ کےلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کو وہ ان الفاظ میں لکھتے ہیں۔
“سر !دیکھیں کمیل سب کو ربڑ میں کاغذ باندھ کر مار رہا ہے”۔جماعت کے مانیٹر نے شکایت کی تو میں نے کمیل کو گھورا اور کہا”کمیل!ربڑ میرے حوالے کر دو”۔
کمیل کا مزاج دوسرے طلبا سے مختلف ہے اور وہ دروں بینی کی وجہ سے اپنے دل کی سنتا اور مانتا ہے۔اس نے مجھے ربڑ دینے سے انکار کر دیا۔میں نے اس کو دھمکی دی کہ اگر وہ ربڑ میرے حوالے نہیں کرے گا تو میں اس کو ہیڈ کے پاس لے کر چلا جائوں گا۔وہ پھر بھی ٹس سے مس نہ ہوا۔میں نے اس بارے میں ہیڈ کو نہ بتایا۔
ؒالبتہ اس کے بعد میں نے کمیل کے ساتھ بات کرنا بند کر دیا۔جب وہ مجھ سے ہم کلام ہوتا ،میں یہی جواب دیا”کمیل! آپ مجھ سے بات مت کریں کیونکہ میں آپ کے ساتھ اس روز ربڑ نہ دینے کی وجہ سے ناراض ہوں”۔دن گزرتے گئے اور میں نے کمیل سے بات کرنا بند رکھا۔عام حالات میں کمیل کے ساتھ میں نہایت شفقت کرتا تھا ۔وہ شفقت ختم ہوئی توکچھ دنوں بعد کمیل متفکر نظر آنے لگا۔
ان پندرہ دنوں میں مجھے اسکول میں صفائی کرنے والوں نے متعدد مرتبہ بتایا کہ کمیل نے کئی مرتبہ تمام کوڑے دان چھان مارے تھے۔وہ اسی ربڑ کی تلاش میں سرگرداں رہا لیکن اس کو وہ ربڑ کہیں نہ مل سکا۔ایک چھوٹی سی چیز کئی ایکڑ کے رقبے پر پھیلی ہوئی اسکول کی عمارت میں اسے کہاں ملتی۔اس نے وہ ربڑ کہاں پھینکا،اسے یاد نہ تھا۔یاد تھی تو بس ایک چیز۔۔سر ناراض ہیں۔
“سر اس ربڑ کے بجائے یہ ربڑ لے لیں”۔آج پندرہ دن بعد کمیل نے میرے کمرہ جماعت میں داخل ہونے کے فورا بعد ایک ربڑ میری جانب بڑھا دیا۔”وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی کسی کو ربڑ میں کاغذ باندھ کر نہیں ماروں گا اور آپ کی ہر بات مانوں گا”

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us