بدھ‬‮   22   اگست‬‮   2018
           

پسماندہ شہر میں شوہر اپنی جواں سالہ بیوی کو انتہائی شرمناک کام پر مجبور کرتا رہا۔۔انکار پر ایک ایسا بے ہودہ الزام لگا کر اسے قتل کر دیاکہ علاقے کے سارے لوگوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا


نوشہرہ کینٹ(مانیٹرنگ ڈیسک )نوشہرہ اکوڑہ خٹک میں غیرت کے نام پر جوان سال شادی شدہ خاتون کو شوہر اور سسرالیوں کے ہاتھوں موت کے گھات اتارنے کے خلاف سیکڑوں مشتعل مظاہرین نے جابحق مقتولہ صائقہ کی نعیش جی ٹی روڈ پر رکھ کر شدید احتجاج کیا ۔مشتعل مظاہرین نے پشاور راولپنڈی جی ٹی روڈ اور راولپنڈی پشاور جی ٹی روڈ مکمل طور

پر بلاک کردیا۔ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف شدید نعرہ بازی۔مقتولہ اور اس کے خاندان کے ساتھ انصاف کا مطالبہ۔مشتعل مظاہرین نے روڈ کو ایک گھنٹہ کیلئے بند رکھا گیا۔ پولیس سے کامیاب مذاکرات اور مقتولہ کے کیس میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کی یقین دھانی پر مشتعل مظاہرین نے احتجاج ختم کرکے مقتولہ کی تدفین کردی۔تفصیلات کے مطابق نوشہرہ آکوڑہ خٹک میں حواء کی بیٹی غیرت کے نام پر موت کے گھات اتار دی گئی۔ظالم شوہر،دیور اور سسر کے خلاف مقتولہ صائقہ کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ آکوڑہ خٹک میں مقدمہ درج کر دیا گیا۔ نوشہرہ کے علاقے علی گڑھی آکوڑہ خٹک میں سسرالیوں کے ظلم کی شکار ۲۵ سالہ تین بچوں کی ماں کو غیرت کی بھیت چڑھا دیا گیا۔ظالم شوہر اعجاز خان،دیور باچہ اور سسرآزاد خان نے بدکاری پر مجبور کیا نہ مانی تو تشدد کرکے موت کے گھات اتاردیا۔مقتولہ کی ماں بی بی روزہ زوجہ محمد علی سکنہ ادم زئی کے مطابق میری بیٹی کو اس کے دیور اور سسر نے چند ماہ قبل بھی فروخت کیا تھا ہم نے اس کی رپورٹ تھانہ آکوڑہ خٹک اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نوشہرہ میں تحریری درخواست جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کی میری بیٹی آغوا ٗ کاروں کی چنگل سے آزاد ہوکر گھر پہنچ گی سسرال والوں نے ہم سے راضی نامہ کیا مقتولہ صائقہ کا شوہر دوبئی سے واپس آیا تو ہم نے راضی نامہ کے بعد اس کو تین بچوں سمیت واپس بھیج دیا۔اکثر شوہر اور سسرالیو

ں کے ظلم اور بربریت کی فریاد کرتی تھی۔مقتولہ کی والدہ کے مطابق اس کی بیٹی کو بدکاری اور شادی کے نام پر فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی تھی مگر وہ نہیں مانی اور اس کے شوہر اور سسرلیوں نے اس کو مار مار کر موت کے گھات اتاردیااور اس کے بچوں بھی غائب کروادئے۔پولیس کے مطابق مقتولہ کے چہرے اور بند پر تشدد کی وجہ سے جسم کا رنگ تبدیل ہوچکا تھا۔پولیس نے نعیش تحویل میں لیکر ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرہسپتال نوشہرہ منتقل کی۔پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرہسپتال نوشہرہ لیڈی ڈاکٹر نے پولیس کو نعیش مزید تحقیق کے لیے خیبرمیڈئکل کالج پشاور منتقل کی جائیں جہاں تحقیق کے بعد موت کی اصل وجہ معلوم ہوگی۔پولیس نے نعیش خیبرمیڈئکل کالج پشاور منتقل کردی۔مقتولہ صائقہ کی والدہ بی بی روزہ کی مدعیت میں مقتولہ کے شوہر اعجاز،بھائی باچہ اور سسر آزاد خان کے خلاف تھانہ آکوڑہ خٹک میں مقدمہ درج کردیا گیا۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us