اتوار‬‮   25   فروری‬‮   2018
           

عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر کون سا (ن)لیگی رہنما قومی پرچم کو سرنگوں کرنا چاہ رہا تھا؟؟کون نماز جنازہ میں مردوں اور عورتوں کو اکٹھا دیکھ کر واپس چلا گیا؟؟اہم انکشافات


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف ملکی قانون دان عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ گزشتہ روز قذافی سٹیڈیم میں ادا کی گئی تھی جس میں سیکولر طبقہ ایک بڑی تعداد میں شریک ہوااور مردو خواتین نے ایک ہی ساتھ یہ نماز جنازہ پڑھی۔ایک موقر قومی روزنامے نے اپنی رپورٹ میں اس نماز جنازہ سے جڑے چند اہم انکشافات کیے ہیں۔روزنامہ امت نے اپنی رپورٹ میں

بتایا ہے کہ لادین طبقے نے عاصمہ جہانگیر کے جسد خاکی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرانے کےلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا ۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر وفاق کو خط لکھ ڈالا کہ عاصمہ جہانگیر کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے اور ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے قومی پرچم سرنگوں کیا جائے ۔ ادھر سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بھی اس سلسلے میں کوششیں شروع کر دیں تاہم وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ان دونوں کی درخواست کو رد کر دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی عاصمہ جہانگیر کی نما ز جنازہ میں شریک نہ ہوئے۔ اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عاصمہ جہانگیر نے لاہور کے ایک روزنامہ کو دئیے گئے انٹرویو میں اپنے شوہر طاہر جہانگیر کے قادیانی ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ اس انٹرویو کی وجہ سے ہی عمومی رائے یہی تھی کہ قادیانی سسرال ہونے کی وجہ سے ان کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر قذافی سٹیڈیم آئے لیکن نماز جنازہ میں شرکت کیے بغیر ہی واپس چلے گئے۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved