بدھ‬‮   23   مئی‬‮   2018
           

آئمہ مساجد کے تشویش ناک معاشی حالات


تمہید
مولوی اس معاشرے کا ایک ایسا فرد ہے جس کے خلاف ایک طویل عرصے سے تنقید و تنقیص کا بازار گرم ہے۔لبرل اور سیکولر طبقے کو تو یہ ویسے ہی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ان لوگوں کے لیے کسی شخص کا مذہب پسند ہونا ہی اس کے قابلِ تحقیر ہونے کے لیے کافی ہے ۔دوسری جانب مذہب پسند معاشرے میں مذہبی رہنما بھی عافیت اور امن سے لطف اندوز ہونے سے قاصر ہے۔چونکہ دین اور دنیا کے درمیان قولی اعتبار سے نہ سہی لیکن عملی اعتبار سے ایک حدِ فاصل قائم کر دی گئی ہے اس لیے معاشرے کو دنیاوی زندگی کی الجھنوں نے اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ وہ اربابِ ملتِ ابراہیمی کے دکھوں کا احساس اور مداوا کر سکیں۔ ذیل میں ایک ایسے پہلو کی نشاندہی کی جا رہی ہے جس سے تا حال اہلِ فکر اور اہلِ قلم نے نا معلوم وجوہات کی بنا پر اغماض کیے رکھا ہے۔
دینی جامعات کے فضلا کا معاشی منظر نامہ
عموما مڈل یا میٹرک کے بعد ایک طالب علم مذہبی تعلیم کے لیے کسی مدرسہ کا رخ کرتا ہے تو کم و بیش دوبرس میں قرآن کریم حفظ کرنے اور آٹھ برس درسِ نظامی کی تکمیل میں صرف کرتا ہے۔دینی جامعات کے طلبا اس دوران درس و تدریس اور امامت و خطابت کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں تا کہ اپنے علم کی تبلیغ و اشاعت کے ساتھ ساتھ وہ اپنا جیب خرچ چلا سکیں۔آٹھ سال بعد فارغ التحصیل ہونے والے وہ طلبا جو شہادۃ العالمیہ سے نوازے جاتے ہیں،سرکاری اعلان کے مطابق ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے مساوی تعلیم کے حامل قرار دیے جاتے ہیں ۔
یہ فضلا عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے مساجد کی امامت و خطابت یا مدارس میں تدریس کے فرائض سر انجام دینے کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ایک پیش امام کی ابتدائی تنخواہ تقریبا دس سے بارہ ہزار روپے،ایک خطیب کی تنخواہ چھ سے آٹھ ہزار روپے اور مدرسہ میں تدریس کرنے والے ایک استاد کی تنخواہ بارہ سے پندرہ ہزار روپے مقرر کی جاتی ہے۔وہ علما جو سعودی عرب،مصر ،ایران وغیرہ سے اعلیٰ سطح کی مذہبی تعلیم و تربیت حاصل کر کے پاکستان واپس آتے ہیں ان کی تنخواہ میں دو چار ہزار روپے کا اضافہ کر دیا جاتا ہے تا کہ ان کا امتیازی مقام برقرار رکھنے کی کوشش کی جا سکے۔
کالج اور یونیورسٹی کے گریجو ایٹس کا معاشی منظر نامہ
کسی بھی شعبے میں ایک ادنیٰ ملازمت کے حصول کے لیے اس کے لیے مطلوبہ علوم اور ہنر کا سیکھنا ناگزیر ہے۔ہمارے ہاں انٹر میڈیٹ تک روایتی علوم سکھانے کے بعد گریجوایشن میں چار سال کا عرصہ طلبا کو زندگی کے جملہ شعبوں میں سے کسی ایک کے لیے متخصص بنانے میں صرف کیا جاتا ہے۔سولہ سال کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کوئی بھی گریجوایٹ سرکاری،نیم سرکاری یا پرائیویٹ سطح پر باعزت روزگار حاصل کرنے کا اہل سمجھا جاتا ہے اور ایک گریجوایٹ کی ابتدائی تنخواہ بیس ہزار سے شروع ہوتی ہے۔جوں جوں اپنی فیلڈ میں اس کا تجربہ بڑھتا جاتا ہے،اس کی تنخواہ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔بعض خوش نصیب بیرونِ ملک سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن عزیز واپس آتے ہیں تو انہیں یہاں کی ملٹی نیشنل اور نیشنل کمپنیاں ہاتھوں ہاتھ لے کر ان کی تنخواہ لاکھوں میں مقرر کرتی ہیں۔
یہاں چند اہم نکات سمجھ لیجیے:۔
تقرری کے معیار کا فرق
جس شخص کی تعلیم مکمل ہو جائے اس کو بغیر کسی صلاحیت اور تجربے کے نوکری دے دی جاتی ہے۔شروع میں اس کو کسی سینئر کے ساتھ رکھ کر اس کی تربیت کی جاتی ہے ۔اس عمل کو “اِنٹَرن شِپ “کہا جاتا ہے۔ جیسے ہی اس کو اپنے کام کی سوجھ بوجھ ہو جائے،اس کو فرائض کی ادائیگی پر مامور کر دیا جاتا ہے۔کمپنیوں میں تعیناتی کا اختار ان لوگوں کے پاس ہوتا ہے جو متعلقہ شعبے کے ماہرین اور زیرک افراد ہوتے ہیں۔
پیش امام کی تعیناتی کے وقت اس میں تمام صلاحیتوں کا بدرجہ اتم موجود ہونا یقینی بنایا جاتا ہے۔یقینی بنانے کے لیے کوئی خاص معیار یا پیمانہ نہیں ہے بلکہ مسجد کی انتظامیہ کے افراد کی ذاتی پسند اور نا پسند ہی اصل کسوٹی ہوتی ہے۔لوگ “بہو” یا “بیوی” تلاش کرتے ہوئے لڑکیوں میں اتنی خامیاں اور نقص نہیں نکالتے ہیں جتنے نقائص وہ پیش امام میں سے نکالتے ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ مساجد کی انتظامیہ اور پیش امام کی جانچ پرکھ کرنے والے لوگ خود عالم فاضل نہیں ہوتے بلکہ گلی محلے کے سرمایہ دار ہوتے ہیں۔دینی علوم و فنون میں ان کی قابلیت سطحی سی ہوتی ہے۔
تعطیلات کا فرق
کمپنیوں میں ملازمت اختیار کرنے والے فرد سے ہفتے میں پانچ دن کام لیا جاتا ہے اور بعض مقامات پر اس کی ڈیوٹی چھ روز ہوتی ہے۔
وہ دن میں چھ سے آٹھ گھنٹے تک کام کرتا ہے اور “ویک اینڈ” سے مستفید ہوتا ہے۔ ہفتے اور اتوار کی چھٹی کے علاوہ بھی مہینے میں ایک چھٹی کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
دوسری جانب مسجد کا پیش امام ہفتے میں سات دن ڈیوٹی پر موجود ہوتا ہے اور اس کی زندگی میں ویک اینڈ جیسی کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے۔وہ سات یا آٹھ گھنٹے کے بجائے چوبیس گھنٹے آن ڈیوٹی رہنے کا پابند ہے۔
کمپنی کے ملازم کو ہر قومی مذہبی یا عالمی تہوار کے موقع پر چھٹی ملتی ہے۔ جب کہ مسجد کے پیش امام کو کسی بھی قومی،عالمی یا مذہبی تہوار کی چھٹی نہیں ملتی بلکہ وہ عید کے روز بھی حاضر ڈیوٹی رہتے ہیں۔
مسجد کا پیش امام صبح صادق کے وقت سے عشاء کی نماز کے بعد تک حاضر ڈیوٹی رہتا ہے۔
خوشی یا غمی کے موقع پر اس کو چھٹی نہیں دی جاتی اور اگر چھٹی کرنا ناگزیر ہو تو انتظامیہ کی جانب سے اسے پابند کیا جاتا ہے کہ وہ فجر کی نماز پڑھا کر جائے اور مغرب کی نماز سے قبل واپس ڈیوٹی پر پہنچے۔کیونکہ ظہرو عصر کی نمازوں میں چونکہ سری قرات کی جاتی ہے اس لیے محلے کے کوئی حاجی،صوفی یا صدر انتظامیہ صاحب ان کی امامت کروا سکتے ہیں لیکن جہاں تک جہری نمازوں(فجر،مغرب اور عشاء) کا سوال ہے،کوئی ان کی امامت کا اہل نہیں ہوتا۔
کئی منتظمین کی جانب سے ظہر اور عصر، دو نمازوں کی چھٹی کرنے کے عوض قاری صاحب کی تنخواہ میں سے ایک دن کا معاوضہ بھی کاٹ لیا جاتا ہے۔
کام کی نوعیت کا فرق
کمپنی کے ملازما کام مختص اور متعین ہوتا ہے ۔ملازم کی جوابدہی محض اپنے کام سے متعلق ہوتی ہے اور دوسرے شعبے یا دوسرے فرد کی کارکردگی سے متعلق وہ کسی قسم کی جواب دہی کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔اپنے کام کے کرنے اور اس کومنطقی انجام تک پہنچانے کی صورت میں داد و ستائش پاتا ہے اور اسے ترقی بھی دی جاتی ہے۔
دوسری جانب مسجد کے پیش امام کی ذمہ داریاں اور اس کا کام مختص اور معین نہیں ہوتا بلکہ مسجد میں جھاڑو لگانا،بیت الخلا کی صفائی کرنا،بر وقت پانی کی موٹر چلانا اور بند کرنا،آذان دینا،امامت کروانا،بچوں کو ناظرہ پڑھانا،مسجد کے لیے چندہ مانگنا،انتظامیہ کے نام پر چند لوگوں کی “گینگ” کے طعنے سننا اور ان سب امور کے بدلے میں محض صبر و شکر رکتے ہوئے دس سے بارہ ہزار روپے تنخواہ موصول کرنا وغیرہ۔۔۔یہ سب امام صاحب کے فرائض میں شامل ہیں اور ان کی انجام دہی کے باوجود انتظامیہ کے افراد کے تیور اور مزاج بگڑے رہتے ہیں۔
سہولیات کا فرق
بعض کمپنیاں اپنے ملازمین کو ذرائع آمد و رفت کی سہولت،رہائش کی سہولت،میڈیکل کی سہولت اور بچوں کی تعلیم کی سہولت بھی مہیا کرتی ہیں۔تہواروں کے موقع پر خصوصی الاؤنس دیے جاتے ہیں۔ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو ترقی دی جاتی ہے،انہیں بیرونِ ممالک فیملی سمیت کمپنی کی طرف سے سیاحت کروائی جاتی ہے۔اپنے کام میں مہارت پیدا کرنے کے لیے ملازمین کو کورسز کروائے جاتے ہیں،تربیت کے لیے ماہرین بوائے جاتے ہیں،ان میں کام کرنے کی ترغیب پیدا کرنے کے لیے Motivational Speakers کو بلایا جاتا ہے۔
پیش امام کے لیے آمد و رفت کی کوئی سہولت موجود نہیں ہوتی۔اکثر آئمہ کو عمر بھر سائیکل سواری کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ آئمہ کے لیے میڈیکل کی کوئی سہولت نہیں ہوتی۔آپ کو کثیر تعداد میں ایسے علما مل سکتے ہیں جو بیماریوں کا شکار ہیں لیکن استطاعت نہ ہونے کے باعث علاج کروانے سے قاصر ہیں۔ایسے علما کی تعداد بھی کم نہیں ہے جو اسی مجبوری کے ہاتھوں بے بس درِ فانی سے کوچ کر گئے ۔
علماء کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری نہ تو ریاست اٹھاتی ہے اور نہ ہی مساجد کی انتظامیہ،چار و ناچار ان کے بچے بھی مدارس میں پڑھنے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں جہاں بلا معاوضہ تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔
غیر شادی شدہ قرا حضرات کے لیے مسجد کے ایک کونے میں مختصر سا کمرہ تعمیر کر کے اس میں رہائش کی سہولت دی جاتی ہے جب کہ شادی شدہ پیش امام کے لیے مسجد کی پہلی یا دوسری منزل پر دو کمرے تعمیر کر کے ان کو رہائش کا اختیار دیا جاتا ہے۔بعض علاقوں میں شادی شدہ امام کو صرف اسی صورت میں رہائش دی جاتی ہے اگر اس کی بیوی بھی عالمہ و فاضلہ ہو اور اپنے خاوند کے ہمراہ خواتین کو ناظرہ پڑھانے،نمازِ تسبیح پڑھانے اور درس و تدریس کے فرائض “بلا معاوضہ” سر انجام دے۔
ملازمت سے فارغ کرنے کے طریقہ کار کا فرق
اگر کوئی ملازم اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سستی یا کاہلی کا شکار ہو تو اس کی تربیت کی جاتی ہے،مختلف کورس کروائے جاتے ہیں تا کہ اس کی قابلیت اور صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔پھر بھی وہ مطلوبہ اہداف تک نہ پہنچ سکے تو کمپنی کی جانب سے اس کو وارننگ جاری کی جاتی ہے اور تین دفعہ وارننگ دینے کے بعد کمپنی اس کو ملازمت سے فارغ کر دیتی ہے۔اگر کوئی کمپنی ناحق کسی ملازم کو ملازمت سے نکال دے تو پاکستان میں اس ملازم کے حقوق کے لیے قانون ی طور پر لیبر کورٹ موجود ہے۔اعداد و شمار کے مطابق لیبر کورٹ ایسے ملازمین کو ان کے حقوق دلواتی ہے اور ان کی نوکریاں انہیں واپس دلوائی جاتی ہیں۔
آئمہ مساجد کی تنخواہ میں سالانہ الاؤنس نہیں لگایا جاتا بلکہ قاری صاحب اگر تنخواہ بڑھانے کے لیے درخواست کرنے کی گستاخی کریں تو انتظامیہ میں موجود مطلق العنان افراد ممکنہ طور پر انہیں “کام” سے نکال کر نئے مولوی کا انتظام کر لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ اگر کسی امام کے تعلقات مسجد انتظامیہ کے ساتھ “میٹھے” نہ رہ سکیں تو بغیر کسی وجہ سے امام کو مسجد سے نکال دیا جاتا ہے۔امام کے لیے نہ کوئی لیبر کورٹ ہے اور نہ کوئی قانون سازی۔۔۔۔۔اب کون پرسانِ حال بنے۔

عدیل گیلانی

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us