اتوار‬‮   25   فروری‬‮   2018
           

پاکستان میں چائلڈ پورنوگرافی کا کاروبار بہت وسیع ہونے کاخدشہ کیوں ہے؟؟اس کو کرنے والے کس سے اور کتنے پیسے لے رہے ہیں؟؟؟وہ کون سےرشتے ہیں جن سے اپنے بچوں کو بہت زیادہ بچا کر رکھنا چاہیے؟؟یہ تحریر ضرور پڑھیے


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل کے اندوہناک واقعے کے بعد ایک سینئر صحافی کے انکشافات (گوکہ گرفتار ملزم کے بارے میں درست ثابت نہیں ہو پارہے ) پر پاکستان میں چائلڈ پورنوگرافی کے گروہوں متحرک ہونے بارے بھی ایک معاشرتی اجتماعی ضمیر کے جاگ اٹھنے کی امید پیدا ہو چکی ہے۔ یوں تو معاشرتی عدم مساوات کے شکار اس معاشرے میں

عوام کا واسطہ پہلے سول کپڑوں میں ملبوس مجرموں کے بعد باوردی مجرموں سے بھی پڑ جاتا ہے اس لئے بیشتر غریب طبقہ انصاف فراہمی کے عمل سے تمام عمر کوسوں دور رہتا ہے ۔ اور یوں جرائم پیشہ عناصر کو تقویت ملتی ہے۔ پہلے تو خیر چائلڈ پورونو گرافی کا کسی کو علم ہی نہیں تھا کہ یہ ہوتی کیا ہے ۔ قصور کے 2015کے واقعے نے بھی کسی کی آنکھیں نہیں کھولیں جس میں کئی بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر ان کی ویڈیو ز بنائی گئیں اور انھیں بلیک میل کیا گیا ۔ اور اب جب حساس اداروں نے اپنی کارروائیاں شروع کیں تو آئے روز ایسے گھنائونے کاروبار میں ملوث درجنوں افراد کی گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہے۔کچھ حساس اور ذمہ دار بن کر سوچا جائے تو اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان جیسے ملک میں اس کی کاروبار کی جڑیں اب تک کافی مضبوط ہو چکی ہوں گی۔کیوں؟ ایٹمی طاقت بننے اور فلک بوس ترقی کے دعووں کے باوجود اس بد صورت کو ہنس کر گلے لگانے سے ہر گز نہیں شرمانا چاہیے کہ پاکستان تعلیم کی کمی، عدم تحفظ ، عدم مساوات ، عدم انصاف، اور پولیس کلچر کی وجہ سے کئی پسماندہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے ۔ایسے ممالک میں جرائم کرنا ترقی یافتہ ممالک کی نسبت دس ہزار گنا زیادہ آسان ہے۔20روپے کے چائے کے کپ سے رشوت شروع ہو جاتی ہے ۔اور پھر چائلڈ پورنو گرافی کے بعد بارے میں تو معلوم ہوا ہے کہ ایسی ویڈیوز کو فروخت کرنے والے ڈارک ویب سائٹس سے اتنے پیسے لے لیتے ہیں کہ ان کی نسلوں کو کوئی نوکری کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک کالم نگا طیبہ ضیا چیمہ نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ کچھ عرصہ قبل

ایسی ہی ایک ویب سائٹ کے کینڈین نژاد مالک کو سی آئی اے اور تھائی پولیس نے مشترکہ آپریشن میں تھائی لینڈ سے گرفتار کیا ۔ وہ مالک ڈارک ویب ورلڈ میں مخلف کیٹگریز کی چھے سے زائد ویب سائٹس کا مالک تھا جس میں آن لائن مارکیٹ( جس پر چوری شدہ چیزیں بیچی جاتی تھیں) ، چائلڈ اور آڈلٹ پورنو گرافی شامل ہیں۔ اس مالک کے قبضے سے تئیس کروڑ یوروز کی پراپرٹی اور گاڑیاں ضبط کی گئیں۔ اسی بات سے اندازہ لگا لیں کہ پورنو گرافی خاص کر چائلڈ پورنو گرافی کس قدر منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ اور ڈالرز کی اس گندی بہتی گنگا میں پاکستانی خاص کر قصور کے چند لوگ بھی ہاتھ دھو رہے ہیں۔اب خود اندازہ لگا لیں کہ ایسا کرنے والا ایک پورے تھانے کو اپنی جیب میں رکھ کر گھوم سکتا ہے۔ پولیس اس کو گرفتار تو کیا کسی کو اس کے اس مکروہ دھندے کی بھنک تک نہیں پڑنے دے گی اور ایسے شخص کی باقاعدہ سرپرستی کرے گی۔ اگر ایسے کسی متاثرہ بچے کے والدین نے شورشرابا کیا تو کسی عام آدمی کو پکڑ کر تشدد کرکے اسے مار ڈالے گی اور کہے گی اس نے ویڈیوز بنانے کا اعتراف کیا تھا اور بھاگنے کی کوشش کی تھی اس لئے اس مار ڈالا گیا جیسا کہ قصور ہی کی ایمان فاطمہ کے معاملے میں ہوا تھا جب ایک بے گناہ نوجوان مدثر کی ہڈیاں توڑ دی گئیں حتیٰ کہ وہ مر گیا اور بعد میں ڈی این اے ملزم عمران علی سے میچ کر گیا ۔ یہ کہنا کہ یہ دھندہ پاکستان میں آسان ہے اس لحاظ سے بھی درست ہے کہ اسی کالم میں لکھا گیا ہے کہ فریقی ممالک خاص کر صومالیہ کی بہت سی ویڈیوز تھیں جن میں قحط زدہ علاقوں کے بچے بچیوں کو آپس میں جنسی فعل پر مجبورکیا جاتا تھا اور انھیں کھانے یا پیسوں کا لالچ دیا جاتا تھا۔غرضیکہ بھوک و افلاس ہو یا عدم انصاف اور عدم مساوات کا معاملہ۔چائلڈ پورنوگرافی کی جڑیں ہر پسماندہ ملک میں بہت زیادہ مضبو ط ہو سکتی ہیں۔ اس تحریر کا مقصد جہاں آپ لوگوں کو معلومات پہنچانا ہے وہیں آپ لوگوں کو نصیحت کرنا ہے کہ اپنے بچوں کو منہ بولے چچا، ماموں ، یعنی نام نہاد انکلزکی تحویل میں کبھی اکیلا مت چھوڑا کریں۔ اپنے بچوں کے صرف آپ ہی خیر خواہ ہیں اور کوئی نہیں۔ مغرب جس کو مادر پدر آزاد اور کافر معاشرہ کہا جاتا ہے ان کا قانون سخت ہے ۔آزاد کلچر کے باوجود غیر اخلاقی حرکتوں کے خلاف مغرب کے اصول اور قوانین سخت ہیں ۔اور غیر اخلاقی جرائم کے خلاف شدید ایکشن لیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں قانون اصول اور انصاف نامی کسی چیز کا لگتا ہے کوئ وجود ہی نہیں ۔ لیکن سیاستدانوں کو اپنے لئے عدل بھی چاہئے انصاف بھی چاہئے ؟پاکستان میں شرمناک جرم کھل جائے پھر بھی مجرم دندناتے پھرتے ہیں ؟ایسا تب ہی ممکن ہے جب سیاسی و حفاظتی اداروں کے لوگ مافیاز کی پشت پناہی کرنے لگیں

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved