پیر‬‮   25   جون‬‮   2018
           

میری آنکھ کھلی،،تو ملازمہ اپنی کمر میری طرف کر کے جھاڑو پھیر رہی تھی،،پھر اچانک مجھ پر شیطان سوار ہوا کہ میں نے ہاتھ بڑھا کر۔۔۔۔۔۔۔۔کالج کے پروفیسر کی ایک ایسی حرکت جس سے اس کا گھر تباہ ہو گیا۔۔انتہائی سبق آموز واقعہ


ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) معاشرے میں عزت و قار اور نیک نامی کا حصول کوئی آسان کام نہیں ۔ انسان کو باکردار اور اصول پسند ہو کر رہنا ہوتا ہے۔انسان کو اپنے آ پ کو کئی طرح کے تنازعات اور بد دیانتیوں سے بچانا ہوتا ہے ۔ لیکن اگر انسان سختی سے اس اصول پر کاربند رہے تو معاشرتی عزت و احترام اس کا مقدر بن جاتا ہے ۔ لیکن بنگلہ دیش کے رہائشی

ایک 54سالہ پروفیسر نے اپنی نیک نامی اور شرافت کا خاک میں ملاتے ہوئے ایک ایسی حرکت کر ڈالی کہ اس کی زندگی ہی برباد ہو گئی۔ ڈھاکہ کے ایک کالج میں انگریزی پڑھانے والے پروفیسر حبیب الرحمان نے اپنی ایک آپ بیتی تحریر کی ہے جس میں اس نےبتایا ہے کہ اس نے اپنی ساری زندگی کے حاصل اپنی ایمانداری ،اصول پسندی اور عزت و احترام کو ایک انتہائی ادنیٰ سے غلطی کرکے گنوا دیا ہے ۔اور وہ شرمسار ہو کر ہر ایک سے منہ چھپاتا پھرتا ہے۔

Related image

اپنے ایک کالم میں اس نے تحریر کیا ہے کہ مجھے نہ صرف اس کے خاندان بلکہ اس کے محلے اور کالج میں بھی انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔میری ایک 20سال کی بیٹی ہے اور ایک 71سال کا بیٹا ہے جبکہ میری بیوی بھی سکول کی ٹیچر ہے۔ میں ہم دونوں کی معقول آمدنی اور اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہاتھا کہ مجھ سے ایک ایسی حرکت سرزد ہو گئی کہ میری زندگی ہی برباد ہو گئی۔ میرے گھر میں ایک صفائی ملازمہ آتی تھی جس کی عمر 32 سال تھی لیکن وہ شادی شدہ تھی۔ وہ میرے گھر میں کام کرنے کے علاوہ اور بھی دو تین گھروں میں کام کرتی تھی ۔ اس لیئے کبھی دوپہر کو آجاتی اور کبھی باقی گھروں میں کام کرکے شام کو آجاتی تھی۔ اگرچہ وہ بہت خوش اخلاق اور ادب احترام کرنے والی تھی لیکن میں نے کبھی اس کو ایک ملازمہ سے زیادہ کوئی حیثیت یا توجہ نہیں دی تھی۔

Image result for rape

جب تک وہ کام کرنے نہیں آتی تھی اس کا خیال تک نہیں آتا تھا کہ ایسا بھی کوئی فرد ہمارے گھر آتا ہے۔ ایک روز میں نے تھکاوٹ کی وجہ سے کالج سے چھٹی کر لی ۔ اور دوپہر تک سویا رہا۔ جبکہ میری بیوی اپنی جاب پر اور بچے بھی کالجز میں چلے گئے۔ سوتے ہوئے جھاڑ پونچھ کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے نیند کی حالت میں ہی دیکھا تو وہ مجھے ڈریسنگ ٹیبل کی صفائی کرتی ہوئی نظر آئی۔اس نے کام کے دوران اپنا دوپٹہ اتار کر صوفہ پر رکھا ہوا تھا اس لئے اس کا جسم نمایاں ہو رہا تھا۔ مجھے نیند کی کیفیت میں ہی ایک عجیب سے احساس ہوا ۔ اور آئینے میں اس کا عکس دیکھتا رہا۔ اسے پتہ نہیں چلا کہ میں جاگ گیا تھا۔ اس کے بعد وہ فرش کی صفائی کرتی ہوئی میرے بستر کے قریب پہنچ گئی ۔

Related image

اور اس کی کمر میری طرف تھی۔ نہ جانے مجھے کیا ہوا ۔ مجھے کوئی جھجھک ڈر یا خوف محسوس نہیں ہوا ۔ میں خود نہیں جانتا کہ میں اتنا بے باک کیسے ہوا کہ میں نے ہاتھ اپنے کمبل سے باہر نکال کر اس کی کمر کے نچلے حصے کو چھو لیا۔ اس پر ملازمہ نے ہڑبڑا کر تیزرفتاری سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔اور مجھے قہر آلود نظروںسے گھورنے لگی۔ اگرچہ میںنے اس اثنا میں اپنا ہاتھ کمبل میں ڈال لیا تھا لیکن میں نے بھانپ لیا تھا کہ میر ے چھونے کے جس انداز کو اس نے جس طرح محسوس کیا تھا اسے محض وہم یا حادثاتی قرار دیے جانے کووہ کبھی بھی تسلیم نہ کرتی۔ میں نے بناوٹی انداز میں اس سے پوچھا کیا ہوا ؟۔ اس نے بمشکل منہ سے اتنا کہا۔ کچھ بھی نہیں ہوا ۔ اور پھر کچھ فاصلے پر جا کر چند منٹ کام کیا اور چلی گئی۔میں بستر میں اپنی شرمندگی او رگراوٹ کا احساس لیے ایسے لیٹا رہا جیسے جسم سے جان ہی نکل گئی ہو۔

Related image

مجھے وہ شرافت ، کم گوئی اور اعتدال پسندرویے والا پروفیسر اپنی ذات سے نکل کر بہت دور جاتا ہوا محسوس ہوا۔ اور اس کی جگہ ایک کم ظرف ، بد کردار اور چھوٹے انسان نے لے لی جو ایک خوف اور ندامت کے احساس میں گھر چکا تھا۔ بیوی گھر آئی۔ مجھے اپنے آپ پر شرم آنے لگی کہ ایک پڑھی لکھی ،خوبصورت اور وفا شعا ر بیوی کے ہوتے ہوئے بھی میں نے ایک گری ہوئی حرکت کی۔ پھر وہی خوف کہ وہ میری بیوی کو سب کچھ بتا دے گی۔ میری گھٹیا حرکت کا پول کھل جائے گا۔میں خود اپنے گھر میں بھی سر جھکا کر چلوں گا ۔ میری بیوی ناراض ہو گی۔ وغیر ہ وغیرہ ۔ لیکن جو کچھ ہوا ۔وہ اس سب سے بھی زیادہ بھیانک تھا۔ وہ ملازمہ اس سے اگلے روز نہیں آئی۔

Related image

بیوی نے سوچا کہ شاید کسی بیماری یا ضروری کام کی وجہ سے ناغہ کیا۔ لیکن وہ اگلے دو تین دن مزید نہیں آئی تو میری بیوی نے اس سےفون پر رابطہ کیا اور چھٹیوں کی وجہ پوچھی۔ جس پر اس نے صرف اتنا جواب دیا کہ وہ اب کام نہیں کرے گی ۔ وجہ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ وجہ بھی نہیں بتانا چاہتی۔ میری بیوی جاب کرتی تھی۔ گھر میں صفائی ،کپڑے دھونے وغیر ہ کے معاملات میں ہمیں ملازمہ کی اشد ضرورت تھی۔ میں نے بیوی کو سمجھایا کہ دفعہ کرواس کو۔کوئی اور ملازمہ رکھ لیتے ہیں۔ جس پر بیوی بضد رہی کہ وہ ایماندار ، محنتی اور شریف تھی۔ایسی ملازمہ ہمیں نہیں مل سکتی جس میں یہ تینوں خوبیاں تھیں۔ پھر ایک دن جس قیامت کو میرے گھر پر گرنا تھا ۔گر ہی گئی۔ بیوی بازار گئی اور وہاں سے اس ملازمہ کے گھر چلی گئی۔ مجھے انداز ہ اس وقت ہوا جب میری بیوی نے گھر آکر مجھ پر چیخنا چلانا ، توڑ پھوڑ کرنا اور رونا دھونا شروع کر دیا۔ میرے بچے بھی یہ تماشہ دیکھنے لگے۔ میری بیوی نے واویلا مچانا شروع کر دیا کہ اپنی جوان بیٹی کا ہی خیال کر لیا ہوتا۔ کس چیز کی کمی تھی تمھیں۔ تم تو جانوروں سے بھی بد ترہو۔

Image result for rape

ایک کام والی ملازمہ بھی تم سے محفوظ نہیں۔ جھوٹی آن بان کے پیچھے چھپے ہوئے ایک گھٹیا انسان ہوتم جس کی نام نہاد شرافت کی تعریفوں پر میں کل تک فخر کر تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس دوران میں نے اپنی بیوی کو سنبھالنے کی کوشش کی اور مصنوعی حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھتا رہا کہ ہوا کیا ہے؟ لیکن وہ مجھے پرے دھکیل دیتی اور جو ہاتھ آتا زمین پر پٹخ دیتی۔ میں نے ایک نظر اپنی بیٹی کی طرف دیکھا تو اس نے نفرت سے اپنا منہ ہی دوسری جانب پھیرلیا۔ بیوی بچوں کو لے کر چلی گئی۔ آج اس واقعے کو دو ماہ ہو چکے ہیں۔ میرے سسرال اور بیوی کے رشتہ داروں کو اس واقعے کی خبر ہو چکی ہے۔ اڑوس پڑوس کو بھی پہلے ملازمہ اور پھر بیوی کے چھوڑ جانے کی خوب خبر ہو چکی ہے۔ میرے قریبی لوگ میرا فون اٹھانے کی بھی روا دار نہیں۔ اور سب سے بڑی کم بختی یہ کہ مجھے بیوی کی طرف سے طلاق کے مطالبے کے پیغامات موصول ہورہے ہیں۔ اپنے معمولات بگڑنے کی وجہ سے میں کالج سے بھی اکثر لیٹ اور غیر حاضر رہتاہوں۔ اور باہر کھانا کھانے کی وجہ سے معدہ اکثر خراب رہتا ہے۔ گھر میں سارا نظام درہم برہم ہے۔

ان دھلے برتن اور کپڑےمجھے میری شرمناک حرکت کا عکاس دکھائی دیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ میرے بچے میری شکل دیکھنےکے بھی روا دار نہیں۔ ماسوائے ان چند دوستوں کے جو میری حرکت کو جانتے ہوئے بھی مجھ سے ہمدردی کرتے ہیںکوئی بھی آدمی مجھ سے نہیں ملتا جلتا۔ اور اس سب کے پیچھے کیا تھا؟؟وہ ایک چھوٹی سی حرکت؟ اسکا حاصل کیا ہوا؟ یہ سب کچھ؟ کیا ملا مجھے؟؟ کیا ہاتھ آیا؟ عزت ، شہرت ، نیک نامی ،خاندان ، بیوی ، بچے سب کچھ ختم ؟ میں آپ سب کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اپنے آ پ کو جز وقتی لذت کے ایسے خیالات اور حرکات سےدو ر رکھیں۔ اپنے کردار کو سر بلند رکھیں ۔اس کی حفاظت کریں۔ تاکہ آپ لوگ سر اٹھا کر چل سکیں

Related image

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us