بدھ‬‮   22   اگست‬‮   2018
           

اگر کسی لڑکی کی لاش ملے تو دفنانے سے پہلے یہ کیسے معلوم ہو گا کہ مرنے والی مسلمان تھی یا غیر مسلم؟؟؟برسوں پرانی پہیلی کا جواب مل گیا


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کئی ایسی پہیلیاں جنھیں سکولوں میں ، دوستوں کے ساتھ یا خاندان کے قریبی افراد میں بیٹھ کر پوچھا جاتا تھا اور لوگ طرح طرح کے اندازے لگا کر جواب دیا کرتے تھے اب سوشل میڈیا میں بھی پوچھی جانے لگی ہیں ۔ جنھیں لوگ اپنے کمنٹس کے ذریعے بوجھ کر بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔انھی میں سے ایک دلچسپ پہیلی یہ بھی ہے کہ

اگر کوئی لڑکی مردہ حالت میں برآمد ہوتو اسے دفنانے سے قبل یہ کیسے پتہ چلایا جاسکے گا کہ وہ مسلمان تھی یا غیر مسلم۔ اس پر لوگوں نے اپنا دماغ لڑاتے ہوئے ان گنت جوابات بتانے کی کوشش کی ہے۔کچھ لوگوں کی رائے میں لڑکی جس علاقے سے ملی ہے وہاں کا مذہب ہی اس لڑکی کا مذہب تصور ہو گا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ لڑکی کے غیر مسلم ہونے کی کوئی واضح نشانی نہ ملے تو اسے اسلامی طریقے سے دفن کیا جائے ۔اسی طرح کچھ لوگوں نے اسے ماتھے کی تلک کی موجودگی یا عدم موجودگی کی صورت میں مسلم یا غیر مسلم قرار دیا ہے۔یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ لڑکی کو غسل دیا جائے اور پھر اس غسل کیلئے استعمال کیے گئے پانی کو گھوڑے کے سامنے رکھا جائے ۔اگر گھوڑا پانی پی لے تو لڑکی مسلمان ورنہ غیر مسلم۔ تاہم اس بارے میں سب سے زیادہ مستند رائے یہ ہے کہ یہ سوال ہی مہمل اور غیر ضروری ہے۔ایسی لڑکی جس بھی مذہب کے ماننے والوں کو ملے ۔وہ اسے اپنے عقیدے کے مطابق دفنا دیں گے تو کون روکے گا؟۔ اور اگر کوئی روکنے والا ہوگا تو وہ خود اس لڑکی کے لواحقین میں سے ہو گا جو بخوبی بتا سکے گا کہ لڑکی مسلمان تھی یا غیر مسلم۔ ایسے سوالات پر بحث کرنا وقت کے ضیاع کا باعث ہے۔ویسے بھی آج کل کے دور میں کسی لاش کے برآمد ہونے کی صورت میں آس پاس جگہوں پر مطلع کردیا جاتا ہے ۔اور اگر کوئی وارث سامنے نہ آئے تو اسے لاوارث سمجھ کر دفنا دیا جاتا ہے ۔تب کوئی بحث نہیں ہوتی کہ مرنے والا یا والی کس مذہب سے تھی

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us