بدھ‬‮   22   اگست‬‮   2018
           

سابق وزیر اعلی پنجاب غلام مصطفی کھر کس قدر عیاش مزاج تھے؟جانیے تہمینہ درانی کی کتاب سے منتخب ایک واقعہ میں


لاہور(ویب ڈیسک) غلام مصطفی کھر کی سابقہ اہلیہ تہمینہ درانی نے اپنے اس جاگیردار شوہر سے طلاق حاصل کرنے کے بعد 1990 میں ایک کتاب لکھی جس کا نام مائی فیوڈل لارڈ تھا اس انگریزی زبان مین لکھی گئی کتاب میں تہمینہ درانی نے پاکستانی معاشرے میں جاگیرداروں کی سوچ اور رویوں کو بڑی صفائی کے ساتھ عریاں کرکے سب کے سامنے پیش کردیا ہے ۔تہمینہ مائی فیوڈل لارڈ میں لکھتی ہیں۔

جب پسند کی شادی کے بعد پہلی مرتبہ میں غلام مصطفی کھر کے ہمراہ انگلینڈ میں اپنے والدین اور غیر شادی شدہ بہنوں سے ملنے گئی تو میرے والد نے مجھے گلے سے لگاتے ہوئے کہا اگرچہ تمہارے اس فیصلے سے مجھے دلی دکھ پہنچا ہے مگر چونکہ یہ تمہاری دوسری شادی ہے اس لیے میری نصیحت یاد رکھنا اور اپنے خاوند (مصطفی کھر) سے کبھی علیحدہ نہ ہونا اس کے گھر سے اب صرف کفن میں نکلنا ۔ میں نے اپنے والد سے وعدہ کرلیا کہ کبھی کسی صورت میں کسی بھی طرح کے حالات میں مصطفی کو نہیں چھوڑوں گی اور ہمیشہ اس کی بیوی بن کر رہوں گی ۔ تب مجھے علم نہ تھا کہ میں نے اپنے والد سے کتنا مشکل وعدہ کر لیا تھا ۔ اس گھر میں میری بہنوں منو ، زرمینہ اور عدیلہ نے ہمارا استقبال خوشدلی سے کیا خاص طور پر منو اور زرمینہ نے ہمیں بہت پیار دیا اور ہمارا بہت خیال رکھا ۔ عدیلہ کی عمر اس وقت 13 سال تھی وہ ہماری اس گھر میں آمد کے بعد مجھے بے چین سی لگی اس پہلی ملاقات میں ہی مجھے ایسے لگا جیسے عدیلہ اور میرے شوہر غلام مصطفی کھر کا رویہ کچھ ٹھیک نہیں یا کم از کم ویسا نہ تھا جیسا ہونا چاہیے تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے دو بری روحیں ایک چھت تلے اکٹھی ہو گئی ہیں اور بڑی عمر اور پختہ سوچ کی روح کو ایک کمسن اور نئی نویلی روح شکار کے طور پر مل گئی ہو ۔ مصطفی کھر خوش تھا کہ اسے جس چیز کی طلب تھی وہ اسے مثبت رد عمل دے رہی تھی ۔ اگرچہ مصطفی کھر جو کچھ کر رہا تھا وہ انتہائی غیر اخلاقی بات تھی مگ میری بہن عدیلہ بھی شاید اسی ذہنیت کی مالک تھی وہ مصطفی کے قریب رہنے کے بہانے تلاش کرتی پھرتی تھی ۔ یہی چیز ان دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آئی کہ ان دونوں کے پاس ایک دوسرے کی تفریح کا سامان موجود تھا۔ یہ دن ہی میری ازدواجی زندگی کا نکتہ آغاز ثابت ہوئے ۔ میرے والدین نے انگلینڈ میں اپنا ایک گھر مجھے اور مصطفی کو رہنے کے لیے دیا تھا اسی گھر میں ایک روز پاکستان سے ہمارے چند دوست مہمان آنے والے تھے میں اور مصطفی انکی خاطر مدارت اور کھانوں کی تیاری کے انتطامات میں مصروف تھے جبھی مجھے چاندی کے برتنوں کی ضرورت پڑی تو میں نے اپنی والدہ کو فون کیا جنہوں نے عدیلہ اور زرمینہ کے ہاتھ یہ برتن بھیج دیے ۔ عدیلہ اور زرمینہ ہمارے گھر پہنچیں تو مصطفی کچن میں مصروف تھے میں دیگر انتظامات میں الجھی ہوئی تھی جبکہ زرمینہ گھر میں آتے ہی میری ننھی سی بیٹی کے ساتھ کھیلنے میں محو ہو گئی۔ اسی دوران عدیلہ نے نظر بچا کر وہاں پڑی شراب پینا شروع کردی اور اتنی پی لی کہ جلد ہی بے قابو ہو گئی اور اس نے ادھر ادھر جھومنا اور ڈولنا اور اول فول بکنا شروع کردیا ۔ شراب اپنا اثر دکھا چکی تھی میں پریشان ہو گئی کہ ہمارے گھر آنے والے مہمان جو کچھ ہی دیر میں پہنچنے والے تھے وہ یہ سب دیکھ کر کیا سوچیں گے ۔ اور اگر میرے والدین کو پتہ چلا تو وہ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے ۔ بحرحال میں زرمینہ کی مدد سے عدیلہ کو بیڈروم میں لے گئی اور پھر میں نے مصطفی کو بلایا اور عدیلہ کو اپنے ہوش و حواس میں لانے کے لیے مصطفی سے مدد کرنے کو کہا ۔ مصطفی نے بظاہر کچھ ہچکچاتے ہوئے عدیلہ کو بازوں سے پکڑ کر اور اسکے جسم کو سہارا دے کر عدیلہ کو ریلیکس ہونے کو کہا اور حیران کن طور پر کچھ دیر قبل شور کرنے والی الٹے سیدھے بکواس کرنے والی اور ذرا بھی سکون نے کرنے والے عدیلہ بالکل پرسکون ہو گئی ۔ شاید یہ مصطفی کے لمس کا اثر تھا ۔اس واقعہ سے میرے ذہن میں شک کا بیج بویا گیا جو بعد میں پیش آنے والے واقعات کے بعد پختہ ہوتاچلا گیا ۔

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں
تازہ تر ین
دلچسپ و عجیب
روحانی دنیا
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ پاکستان لائیو نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Pakistan Live News. All Rights Reserved
   About Us    |    Privacy policy    |    Contact Us